ڈاکٹر نسرین عابد کا شمار ملک کی چیدہ چیدہ خواتین میں ہوتا تھا۔ وِلایت سے ماحولیاتی انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کرنے والی ملک کی شاید واحد خاتون تھیں اور ملک میں ماحولیاتی آلودگی پر کام کرنے والی سب سے بڑی NGO کی روحِ رواں۔
اُن کا چلنا پھرنا، اُٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا صرف و صرف ایک ہی فکر کے گرد تھا اور وہ تھی کہ کس طرح ملک عزیز کو ماحولیاتی آلودگی، گلوبل وارمنگ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی خانہ خرابیوں سے بچایا جا سکے۔ اِس موضوع پر کوئی پروگرام، کوئی انٹرویو، کوئی مذاکرہ، کوئی کانفرنس اور شو ایسا نہ تھا جو ان کی موجودگی کے بغیر مکمل سمجھا جا سکتا۔ اللہ نے بولنے کا فن بھی خوب دیا تھا۔
جب زندگی ماحول کی فکر میں تِیاگ دی تو گھریلو کام کاج کے لئے نوکروں کی ضرورت پیش آئی۔ صنوبر ایک گیارہ سالہ بچی تھی جو ایک دارالامان میں ابھی تک بچی ہوئی تھی جو ڈاکٹر صاحبہ کی ایک دوست نے انہیں محبتاً گفٹ کر دی اور دنیا داری کو کسی مسکین غریب بچی کی کفالت کا سہرا الگ حصے میں آیا۔
صنوبر کو اپنی نئی مالکہ کا کام اور تقاریر بڑی پسند آتیں، وہ پوری شدت کے ساتھ اُن کی سچائی کی شہادت دیتی۔
ماحول آخر آلودہ ہی تو ہے، نظریں آلودہ ہیں جو اُس کے کم سن بدن کے آر پار ہو جاتی ہیں، لوگ آلودہ ہیں جو اس کے جسم کا طواف کرتے رہتے ہیں اور سبزی کی خریداری کے دوران اسے چُھو کر نجانے کون کون سے گناہوں کا ازالہ کرتے ہیں۔ مزاج آلودہ ہو گئے، رویّے اور ارادے آلودہ ہو گئے۔
خانقاہوں کے چراغ آلودہ ہو گئے، مسجدوں کے مینار آلودہ ہو گئے، منصفوں کا انصاف، راہبروں کی رہبری، منزلوں کے نشان، میاں بیوی کی محبت، اولادوں کی خدمت، گواہوں کے بیان، مفتی کے فتاویٰ، مولوی کا بیان، شیخ کی کرامات، مرید کے حالات، مالدار کا پیسہ، عورت کا حُسن اور بندے کی بندگی سب کچھ ہی تو آلودہ ہو گئے، ٹھیک کہا ڈاکٹر صاحبہ، حق ہے، صنوبر ماحولیاتی آلودگی کی اپنی ہی تعریف کرتی رہتی۔
دِل بینا ہو تو آنکھ کا کام صرف خوبصورتی میں اضافہ ہی رہ جاتا ہے۔ اور صنوبر کو گلوبل وارمنگ پر بھی پورا یقین تھا۔ حدّت میں اضافہ اظہر من الشمس تھا۔ جذبات کی حِدّت، جسموں کی گرمی، کلام کی تپش، رویّوں کی آنچ اور رشتوں کی دہک، اس کو سبھی تو محسوس ہوتے۔ اُسے لگتا اس کا اپنا حسن، اپنے ہی جسم کی حدّت میں جل کر راکھ ہو جائے گا۔
اِدھر ڈاکٹر صاحبہ کے بیرون ملک دورے طویل ہوتے چلے گئے اور اِدھر اُن کے شوہر کی صنوبر کے ساتھ دست برداریاں، آج تو پیشرفت میں حد ہی ہو گئی۔ صنوبر نے بمشکل تمام اپنی عزت بچائی اور بھاگ کر پُل سے چھلانگ لگا کر دریا میں خودکشی کر لی۔
3 دن بعد لاش ملی تو جگہ جگہ سے پھٹ گئی تھی اور پھول کر کُپا ہو گئی تھی۔ تعفن اتنا کہ کوئی اپنا پاس نہ جائے تو خیراتی ادارے والے کہاں ہمت کریں۔ جیسے تیسے کفن دے کر سُپردخاک کیا۔
ڈاکٹر صاحبہ کی واپسی پر صنوبر کی موت کا واقعہ بجلی بن کر گِرا، وہ تڑپ کر کہنے لگیں کہ ساری آنتیں اور خون دریا کے پانی میں مل گیا ہو گا، میرا بس چلے تو دریا میں خودکشی کے ارادے پر الیکٹرک چیئر پر مروا دوں۔ یو نو کتنی ماحولیاٹی آلوڈگی ہوتی ہے۔








