ساجدہ کی عمر بیس سال سے کچھ ہی شرما رہی ہو گی کہ گھر پر ناگہانی آفت آن پڑی۔ اُس کے باپ کو فالج ہو گیا، اُس نے ساری زندگی ریڑھی لگا کر جیسے تیسے اپنی بیوی اور اکلوتی بیٹی کا پیٹ پالا تھا مگر آج دوسروں کے رحم و کرم پر تھا۔ غریب کے تو نہ پہلے ہوتے ہیں نہ دوسرے، نہ اپنے نہ غیر، اُوپر خُدا نیچے خود۔ ساجدہ پر سارے گھر کی ذمہ داریاں آن پڑیں۔ شرم و حیاء کی پیکر، تہجد گزار، برقع پوش جائے تو جائے کہاں اور کرے تو کرے کیا؟ لاہور جیسے شہر میں نوکری تلاش کرنا جُوئے شِیر لانے کے مترادِف ہے۔ کئی دن گزر گئے، گھر میں فاقوں کی نوبت آ گئی مگر کام نہ بنا۔ سفید پوشی کی اذیت سفید کفن سے زیادہ ہوتی ہے کہ اِس کے نیچے زندگی سِسک رہی ہوتی ہے۔ ساجدہ نے اللہ کا نام لے کر باپ کی ریڑھی نکالی اورمال روڈ پر آ گئی، بچپن سے وہ باپ کو دیکھ کر ادھ دکاندار تو ہو ہی چکی تھی۔ پہلے ہی چوک پر پنجاب کی مستعد پولیس نے دھر لیا اور کہا کہ اِسلامی جمہوریہ پاکستان میں عورتوں کو ریڑھی چلانے کی اِجازت نہیں۔ اِس سے کلچر پر بُرا اثر پڑے گا، رو دھو کے ساجدہ نے بڑی مشکل سے خُلاصی پائی۔
جُون کی جُھلستی دھوپ میں ساجدہ سر جھکائے گھر کی جانب رواں دواں تھی کہ اسے اچانک اپنی ایک سہیلی کا خیال آیا جس نے اسے ایک بیوٹی پارلر کا پتہ بتایا تھا کہ وہ لڑکیوں کو روزانہ اُجرت پر رکھ لیتے ہیں۔ ساجدہ کے پائوں کسی مشین کی طرح اسی طرف چلنے لگے۔ دِل نے ہزار بار کچوکے لگائے کہ یہ راستہ ٹھیک نہیں مگر پیٹ بھُوکا ہو تو وہ منطق بھی کھا جاتا ہے۔
بیوٹی پارلر والی ‘‘باجی’’ نے پانچ ہزار روپے اپنا کمیشن بتایا اور کہا کہ پانچ ہزار فی گاہک اُسے ملیں گے اور یوں اِسلامی جمہوریہ پاکستان میں جسم بیچنے کی اِجازت مل گئی۔ اُس کے بعد کے کچھ گھنٹے ساجدہ کو صحیح طرح سے یاد نہیں، کچھ خیال سا پڑتا ہے کہ اس کے باپ کی عمر کا ساہوکار تھا یا شاید گِدھ جو اُسے مردہ سمجھ کر نوچ رہا تھا۔ ساجدہ تو ویسے بھی سُن تھی بس زبان سے مسلسل نکل رہا تھا کہ ‘‘اللہ معاف کر دینا، باپ بھُوکا ہے۔’’
کچھ دیر بعد ساجدہ مُٹھّی میں پانچ ہزار روپے دبائے گھر کی طرف بھاگتی چلی آ رہی تھی، گھر پہنچتے ہی اُس نے غسل کیا اور جا نماز پر کھڑی ہو گئی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ نماز لمبی تھی یا بعد میں مانگے جانے والی دُعا۔ جب زبان نے جذبات کا ساتھ چھوڑ دِیا اور آنسوئوں نے آنکھوں کے بند توڑ دیئے۔ تب شاید ساجدہ نے سجدے سے سر اُٹھایا۔ وہ اُٹھی اور ملحقہ کمرے میں جا کے باپ کی چارپائی کے سرہانے بیٹھ گئی اور مُٹھّی کھول کے پیسے باپ کی جھولی میں ڈال دیئے۔
ماں نے اچنبھے سے پوچھا، ارے واہ میری بیٹی، پیسہ کہاں سے کما کے لائی۔
ساجدہ نے بڑی مشکل سے بدن پر رینگتی چیونٹیوں کے احساس کو دباتے ہوئے جواب دیا۔ ماں تُو چھوڑ اِن باتوں کو، بس ابھی نماز پڑھ کر آ رہی ہوں۔
ماں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
ارے پگلی، پھر تو جا کے دوسری نماز بھی پڑھ لے۔








